مختار ثقفی کی حقیقت

مختار ثقفی کی حقیقت شیعہ کتب سے جاننے کیلئے یہاں کلک کرین۔

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Showing posts with label marriage. Show all posts
Showing posts with label marriage. Show all posts

Wednesday, October 29, 2014

نکاح ام کلثوم در کتب اہل سنت

نکاح ام کلثوم در کتب اہل سنت

عن ابن شهاب قال ثعلبة بن أبي مالك إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قسم مروطا بين نساء من نساء المدينة فبقي مرط جيد فقال له بعض من عنده يا أمير المؤمنين أعط هذا ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك يريدون أم كلثوم بنت علي فقال عمر أم سليط أحق وأم سليط من نساء الأنصار ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال عمر فإنها كانت تزفر لنا القرب يوم أحد

ابن شہاب، ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے مدینہ کی عورتوں کو کچھ چادریں تقسیم کی تھیں، تو ایک نہایت عمدہ چادر بچ گئی، پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا، کہ امیرالمومین یہ چادر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی، یعنی نواسی کو جو آپ کے نکاح میں ہیں دے دیجئے (ان کی مراد تھی) ام کلثوم بنت علی عمر نے فرمایا، ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہیں، اور ام سلیط انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی تھی، عمر نے کہا وہ احد کے دن ہمارے لئے مشکیں بھر بھر کے لاتی تھیں۔[1]


عن جعفر بن محمد ، عن أبيه ، عن علي بن الحسين ، أن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - خطب إلى علي - رضي الله عنه - أم كلثوم ، فقال : أنكحنيها ، فقال علي : إني أرصدها لابن أخي عبد الله بن جعفر ، فقال عمر : أنكحنيها فوالله ما من الناس أحد يرصد من أمرها ما أرصده ، فأنكحه علي

علی بن حسین کہتے ہیں کہ حضرت عمر  نے حضرت علی سے ام کلثوم کا نکاح طلب کیا۔ علی المرتضٰی نے جواب دیا کہ میں نے اپنے برادرزادہ اور عبداللہ بن جعفر کے لئے یہ رشتہ محفوظ کیا ہے۔ تو حضرت عمر نے کہا  آپ مجھے نکاح کر دیں ، اللہ کی قسم ، میں اس کی ایسی نگاہ دشت کروں گا کہ جس طرح کوئ دوسرا حفاظت نہ رکھ سکے گا۔ اس پر حضرت علی المرتضٰی نے ام کلثوم کا نکاح کر دیا۔[2]

عن جعفر بن محمد عن أبيه أن عمر خطب أم كلثوم إلى علي فقال: إنما حبست بناتي على بني جعفر فقال: زوجنيها فوالله ما على ظهر الأرض رجل أرصد من كرامتها ما أرصد. قال: قد فعلت[3]


نا محمد بن القاسم بن زكريا نا هشام بن يونس نا الدراوردي عن جعفر بن محمد عن أبيه " أن أم كلثوم بنت علي وابنها زيدا وقعا في يوم واحد والتقت الصائحتان فلم يدر أيهما هلك قبل فلم ترثه ولم يرثها وأن أهل صفين لم يتوارثوا وأن أهل الحرة لم يتوارثوا

جعفر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدہ ام کلثوم بنت علي اور ان کا بیٹا زید ایک ہی دن فوت ہوئے یہاں تک کہ دونوں کے رونے والوں کا ایک ہی سڑک پر سامنا ہوا تو ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کا وراث نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح واقعہ حرہ میں جو لوگ فوت ہوئے وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے۔ اسی طرح جنگ صفین میں جو لوگ مارے گئے وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے۔ [4]


حدثنا نعيم بن حماد عن عبد العزيز بن محمد حدثنا جعفر عن أبيه أن أم كلثوم وابنها زيدا ماتا في يوم واحد فالتقت الصاحتان في الطريق فلم يرث كل واحد منهما من صاحبه وأن أهل الحرة لم يتوارثوا وأن أهل صفين لم يتوارثوا

جعفر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدہ ام کلثوم اور ان کا بیٹا زید ایک ہی دن فوت ہوئے یہاں تک کہ دونوں کے رونے والوں کا ایک ہی سڑک پر سامنا ہوا تو ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کا وراث نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح واقعہ حرہ میں جو لوگ فوت ہوئے وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے۔ اسی طرح جنگ صفین میں جو لوگ مارے گئے وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے۔ [5]


قَالَ : وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّمَا حَبَسْتُ بَنَاتِي عَلَى بَنِي جَعْفَرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْكِحْنِيهَا يَا عَلِيُّ ، فَوَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ رَجُلٌ يَرْصُدُ مِنْ حُسْنِ صَحَابَتِهَا مَا أَرْصُدُ ، قَالَ عَلِيٌّ : قَدْ فَعَلْتُ[6]


عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ خَطَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّمَا حَبَسْتُ بَنَاتِي عَلَى بَنِي جَعْفَرٍ . فَقَالَ : أَنْكِحْنِيهَا ، فَوَاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ رَجُلٌ أَرْصَدَ مِنْ حُسْنِ عِشْرَتِهَا مَا أَرْصَدْتُ . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا[7]


عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّمَا حَبَسْتُ بَنَاتِي عَلَى بَنِي جَعْفَرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْكِحْنِيهَا يَا عَلِيُّ ، فَوَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ رَجُلٌ يَرْصُدُ مِنْ حُسْنِ صَحَابَتِهَا مَا أَرْصُدُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : قَدْ فَعَلْتُ[8]


عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ إِلَى عَلِيّ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَقَالَ : أَنْكِحْنِيهَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنِّي أَرْصُدُهَا لابْنِ أَخِي جَعْفَرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْكِحْنِيهَا ، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يَرْصُدُ مِنْ أَمْرِهَا مَا أَرْصُدُ ، فَأَنْكَحَهُ عَلِيٌّ[9]


عن أبي جعفر أن عمر بن الخطاب خطب إلى علي ابن أبي طالب ابنته أم كلثوم ، فقال علي : إنما حبست بناتي على بني جعفر ، فقال عمر : أنكحنيها يا علي ! فو الله ما على ظهر الارض رجل يرصد من حسن صحابتها ما أرصد ! فقال علي : قد فعلت[10]


وزينب ابنة علي الكبرى، ولدت لعبد الله بن جعفر بن أبي طالب؛ وأم كلثوم الكبرى، ولدت لعمر بن الخطاب؛ وأمهم: فاطمة بنت النبي - صلى الله عليه وسلم

حضرت علی کی بیٹی زینب الکبری کے بطن سے عبداللہ بن جعفر کی اولاد ہوئ ، اور ام کلثوم کے بطن سے حضرت عمر بن الخطاب کا بچہ تولد ہوا اور دونوں کی ماں سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ  ﷺ تھیں۔[11]


و (عمر) بن الخطاب رحمه الله كانت عنده ام كلثوم بنت على ثم خلف عليه (عون) ثم (محمد) ثم (عبد الله) بنو جعفر بن ابى طالب رحمه الله

حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں ام کلثوم بنت علی تھیں۔ اس کے بعد عون بن جعفر پھر محمد بن جعفر اور اس کے بعد عبداللہ بن جعفر کے نکاح میں آئیں۔[12]


وأما أم كلثوم الكبرى وهي بنت فاطمة فكانت عند عمر بن الخطاب

حضرت ام کلثوم حضرت فاطمہ کی بیٹی تھیں اور یہ حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں تھیں۔[13]


وإبراهيم بن نعيم النحام بن عبد الله بن أسيد بن عبد بن عوف بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب، كانت عنده رقية بنت عمر، أخت حفصة لأبيها، وأمها: أم كلثوم بنت علي

ابراہیم بن نعیم النحام کے نکاح میں حضرت عمر کی بیٹی رقیة تھیں جو حضرت ام المومنین  حفصة کی بہن ہیں اور ان کی ماں ام کلثوم دختر علی ہیں۔[14]


وتزوج أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، بنت بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عمر بن الخطاب، فولدت له زيداً لم يعقب، ورقية؛ ثم خلف عليها بعد عمر - رضي الله عنه - عون بن جعفر بن أبي طالب؛ ثم خلف عليها بعده محمد بن جعفر بن أبي طالب؛ ثم خلف عليها بعده عبد الله بن جعفر ابن أبي طالب، بعد طلاقه لأختها زينب

حضور ﴿ص﴾ کی بیٹی کی  صاحبزادی ام کلثوم بنت علی المرتضٰی کے ساتھ عمر بن الخطاب نے نکاح کیا۔ پس حضرت عمر کی ان سے اولاد ہوئ۔ ایک لڑکا زید ہوا، جن کی نسل  آگے نہیں چلی۔ اور لڑکی رقیة ہوئ۔ پھر حضرت عمر کی وفات کے بعد ام کلثوم کا نکاح عون بن جعفر سے ہوا۔ پھر عون کے بعد محمد بن جعفر سے ہوا۔ پھر محمد کے بعد ان کے بھائ عبداللہ بن جعفر سے ہوا جبکہ عبداللہ نے انکی بہن زینب کو طلاق  دے دی تھی۔ [15]


هذه أم كلثوم هي ابنة علي زوج عمر بن الخطاب

یہ ام کلثوم حضرت علی کی صاحبزادی اور حضرت عمر بن الخطاب کی زوجہ تھیں۔[16]


ثم تزوج أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، وأمها فاطمة بنت رسول الله، صلى الله عليه وسلم، وأصدقها أربعين ألفاً، فولدت له رقية وزيداً[17]



وأما أم كلثوم تزوجها عمر بن الخطاب ، فولدت له زيد بن عمر[18]





[1]     صحیح بخاری

[2]     مستدرک حاکم

[3]     الاصابہ

[4]     سنن الدارقطنی

[5]     سنن دارمی

[6]     تاریخ دمشق

[7]     سنن سعيد بن منصور

[8]     طبقات ابن سعد

[9]     فضائل صحابہ

[10]    كنز العمال

[11]    نسب قريش

[12]    كتاب المحبر

[13]    المعارف - ابن قتیبہ

[14]    انساب الاشراف

[15]    جمهرہ انساب العرب

[16]    اسد الغابہ

[17]    الكامل في التاريخ ج 1 ص 471

[18]    دلائل النبوۃ

نکاح ام کلثوم در کتب اہل تشیع

نکاح ام کلثوم در کتب اہل تشیع

محمد بن يحيى وغيره عن أحمد بن محمد بن عيسى عن الحسين بن سعيد عن النضر بن سويد عن هشام بن سالم عن سليمان بن خالد قال: سألت أبا عبد الله ع عن امرأة توفى زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيث شاءت ثم قال: إن عليا ع لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته

سلیمان بن خالد کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے ، وہ اپنی عدت کے ایام کہاں گزارے ؟ خاوند کے گھر میں یا جہان چاہے؟  امام جعفر نے کہا کہ جہاں چاہے، پھر فرمایا ، جب حضرت عمر فوت ہوئے تو حضرت علی اپنی صاحبزادی ام کلثوم کے پاس گئے اور اس کو اپنے ساتھ گھر لے کر آئے۔[1]

مجلسی نے اپنی کتاب مراة العقول  میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔[2]

محمد بن يعقوب عن محمد بن يحيى وغيره عن أحمد بن محمد بن عيسى عن الحسين بن سعيد عن النضر بن سويد عن هشام بن سالم عن سليمان ابن خالد قال: سألت أبا عبد الله (ع) عن امرأة توفي عنها زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد ؟ أو حيث شاءت ؟ قال: حيث شاءت ثم قال: إن عليا (ع) لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته

سلیمان بن خالد کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے ، وہ اپنی عدت کے ایام کہاں گزارے ؟ خاوند کے گھر میں یا جہان چاہے؟  امام جعفر نے کہا کہ جہاں چاہے، پھر فرمایا ، جب حضرت عمر فوت ہوئے تو حضرت علی اپنی صاحبزادی ام کلثوم کے پاس گئے اور اس کو اپنے ساتھ گھر لے کر آئے۔[3]


محمد بن أحمد بن يحيى عن جعفر بن محمد القمي عن القداح عن جعفر عن أبيه ع قال: ماتت أم كلثوم بنت علي عليه السلام وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة لا يدرى أيهما هلك قبل فلم يورث احدهما من الآخر وصلى عليهما جميعا

امام جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ؛ حضرت ام کلثوم بنت علی اور ان کے بیٹے زید بن عمر ایک ہی لمحہ میں فوت ہوئے۔ اور یہ پتہ نہ چل سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون فوت ہوا ہے، تو اس صورت میں ایک کو دوسرے کا وارث نہ بنایا جا سکا۔  اور ان دونوں پر اکٹھی نماز پڑھی گئ۔ [4]

فأما انكاحه عليه السلام اياها، فقد ذكرنا في كتابنا الشافي، الجواب عن هذا الباب مشروحا، وبينا انه (ع) ما أجاب عمر إلى انكاح بنته إلا بعد توعد وتهدد ومراجعة ومنازعة

جہاں تک امام علیہ السلام کا اپنی لڑکی کو حضرت عمر سے نکاح کرنے کا تعلق ہے، تو اس مسئلہ کا جواب ہم نے کتاب الشافی میں پورے بسط و تفصیل سے تحریر کر دیا ہے۔ اور ہم نے واضح کر دیا ہے کہ حضرت علی المرتضٰی نے اپنی لڑکی کا رشتہ عمر بن الخطاب کے ڈرانے دھمکانے اور بار بار مراجعت و منازعت کے بعد کیا تھا۔ [5]

محمد بن جعفر طيار بعد از فوت عمر بن خطاب بشرف مصاهرت حضرت امير المومنين مشرف گشته  ام كلثوم را كه با عدم كفائت از روي اكراه در حباله عمر بود تزويج نمود

عمر بن الخطاب کی وفات کے بعد محمد بن جعفر طیار نے ام کلثوم بنت علی کے ساتھ نکاح کیا۔ ام کلثوم غیر کفو ہونے کی وجہ سے مجبوراً حضرت عمر کے نکاح میں تھیں۔ [6]


و الأصل في الجواب هو أن ذلك وقع على سبيل التقية و الاضطرار
اصل جواب یہ ہے کہ یہ ﴿نکاح ام کلثوم بنت علی﴾ تقیہ اور مجبوری کی بنا پر ہوا تھا۔ [7]


و امـّا امـّكـلثـوم حـكـايـت تـزويـج او بـا عـمـر در كـتـب مـسـطـور است  و بعد از او ضجيع عون بن جعفر و از پس او زوجه محمّد بن جعفر گشت

حضرت ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر بن الخطاب کے ساتھ کتابوں میں لکھا ہے اور اس کے بعد عون بن جعفر کے نکاح میں آئی۔ اور اس کے بعد اس کے بھائ محمد بن جعفر کے نکاح میں آئ۔ [8]


وزوج النبي ابنته عثمان، وزوج ابنته زينب بأبي العاص بن الربيع، وليسا من بني هاشم، وكذلك زوّج علي ابنته أم كلثوم من عمر، وتزوج عبد الله بن عمرو بن عثمان فاطمة بنت الحسين، وتزوج مصعب بن الزبير أختها سكينة، وكلهم من غير بني هاشم

نبی کریم ﴿ص﴾ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح عثمان بن عفان سے کر دیا تھا اور اپنی دختر زینب کا نکاح ابولعاص بن ربیع سے کر دیا تھا۔ حالانکہ دونوں بنی ہاشم سے نہ تھے۔ اسی طرح حضرت علی نے اپنی دختر ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر بن الخطاب سے کر دیا تھا، اور عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے ساتھ فاطمہ بنت الحسین کی شادی ہوئ۔ اور ان کی بہن سکینہ بنت الحسین کی شادی مصعب فن زبیر سے ہوئ۔ اور یہ سب بنی ہاشم سے نہیں تھے۔ [9]


و روي أن عمر تزوج أم كلثوم بنت علي

مروی ہے کہ حضرت  عمر نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کیا۔ [10]

فولد من فاطمة (ع): الحسن والحسين والمحسن سقط، وزينب الكبرى، وأم كلثوم الكبرى تزوجها عمر

حضرت فاطمہ علیہا السلام کی اولاد : حسن، حسین، محسن ، زینب الکبری  اور ام کلثوم الکبری جن کا نکاح حضرت عمر سے ہوا۔[11]


وأما ام كلثوم فهي التي تزوجها عمر بن الخطاب

ام کلثوم کا نکاح عمر بن الخطاب سے ہوا۔ [12]





[1]           فروع کافی ، ج ٦ ص ١١۵
[2]           مراة العقول ج ۲١ ص ١۹۹
[3]           وسائل الشیعہ ج ۲۲ ص ۲۴١
[4]      تہذیب الاحکام ج ۹ ص ۳٦۳
[5]     تنزیہ الانبیاء ص ١۹١
[6]     مجالس المومنین، ص ۸۵ ، تذکرہ محمد بن جعفر طیار
[7]     مرآة العقول ، مجلسی، ج ۲۰ ، ص ۴۵
[8]     منتہی الآمال ، در ذکر اولاد امیر المومنین ، ص ١۸۲
[9]     مسالک الافہام شرح شرائع الاسلام ، کتاب النکاح باب لواح العقد
[10]    المبسوط - طوسی ج ۴ ص ۲۷۲
[11]    مناقب آل أبي طالب  ج 3  ص 89
[12]    اعلام الوری ، ج ١ ص ۳۹۷